سپریم کورٹ کا فیصلہ

0
224

کل فیصلہ کچھ بھی آئے، چند باتیں گوش گزار کرتا چلوں:1۔ سپریم کورٹ کی تمام کاروائی میں فوج کا کردار محض ایک خاموش تماشائی ہی رہا ہے۔ کسی بھی مرحلے پر فوج نے سپریم کورٹ کو نہ تو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی ان کے کسی فیصلے پر اثرانداز ہونے۔2۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کے بعد جب میڈیا اور ن لیگی رہنماؤں کی جانب سے ” خوفناک ” نتائج کی دھمکیاں آنا شروع ہوئیں تو سپریم کورٹ کے جج حضرات نے براہ راست آرمی چیف سے بات کی۔ آرمی چیف نے جے آئی ٹی اور جج حضرات کی حفاظت کی ذمے داری کی یقین دہانی کراتے ہوئے آئی ایس آئی کو ہدایت کی کے جے آئی ٹی ممبران اور ان کی فیملیوں کو تحفظ فراہم کریں۔ اس پورے کیس میں اسٹیبلشمنٹ کا رول محض اتنا ہی تھا۔ 3۔ آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ آرمی چیف جنرل باجوہ نے جے آئی ٹی اراکین کیلئے اپنا ویڈیو پیغام ریکارڈ کروا کر بھیجا تھا جس میں انہیں اپنی کاروائی مکمل اطمینان اور نیک نیتی سے کرنے کی تلقین کی اور وعدہ کیا کہ وہ ان کی حفاظت کا ہر ممکن خیال رکھیں گے۔ آرمی چیف کا ویڈیو پیغام سپریم کورٹ کی لائبریری میں محفوظ ہے اور جب بھی کبھی یہ ڈیٹا ” ہیک ” ہوا، آپ خود سن لیں گے کہ جنرل باجوہ نے کس طرح آئین اور قانون کی بالادستی کو محفوظ کرتے ہوئے اپنی پوری سپورٹ سپریم کورٹ کو فراہم کی۔4۔ حالیہ ہفتے کے آغاز میں ایک مرتبہ پھر سپریم کورٹ نے آرمی کو ممکنہ فیصلے پر اعتماد میں لینا چاہا اور ان سے پوچھا کہ بطور ” سٹیک ہولڈر ” ان کے کوئی تحفظات ہوں تو بتا دیں۔ آرمی کی طرف سے ایک مرتبہ پھر یہی پیغام ملا کہ اللہ کے احکامات اور آئین کے تحت آپ اپنا فیصلہ سنائیں، فیصلے کے مضمرات سے اللہ کی مہربانی اور قوم کی حمایت سے نمٹ لیں گے۔5۔ شہبازشریف نے آرمی سے خود رابطہ کیا ہے اور انہیں درخواست کی ہے کہ ان کے بھائی کو نااہلی کے بعد محفوظ راستہ دیتے ہوئے ملک سے نکل جانے دیا جائے۔ شہبازشریف نے اس کے ساتھ یہ بھی عندیہ دیا کہ نوازشریف کی نااہلی کے بعد ملکی سیاست میں پیدا ہونے والا خلا وہ پورا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ شہبازشریف نے یہ بھی بتایا کہ ان پر کرپشن کے وہ الزامات نہیں جو ان کے بھائی پر ہیں۔6۔ کل کا فیصلہ وہی پانچ رکنی بنچ سنانے جارہا ہے جس نے پانامہ کیس کی سماعت کی تھی اور قانونی اعتبار سے اسی بنچ کو فیصلہ سنانا ہے۔ یاد رھے کہ اس بنچ کے دو جج صاحبان پہلے ہی نوازشریف کو نااہل قرار دے چکے، یعنی انہیں کسی جے آئی ٹی یا مزید ثبوتوں کی ضرورت نہیں تھی۔ باقی کے تین ججوں نے نوازشریف کو اپنی صفائی میں مزید ثبوت دینے کی مہلت دینے کی غرض سے جے آئی ٹی بنائی لیکن نوازشریف بری طرح ناکام رہا۔7۔ کل کا فیصلہ کچھ بھی آئے، نوازشریف اور اس کے بچوں کی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کردے گا۔ منشی اسحاق ڈار کا کیرئیر بھی اختتام پذیر ہوگا، نیب اور ایس ای سی پی کے سربراہان سمیت سب کے خلاف کاروائیاں ہوں گی۔ نیشنل بنک کے صدر کو اپنی کرسی چھوڑ کر قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ الغرض، کل کا فیصلہ ماضی کی کرپشن کی روشنی میں مستقبل میں کرپشن کرنے کے راستے کافی حد تک معدوم کردے گا۔

LEAVE A REPLY